کرونا ویکسین کی دوڑ، جرمنی، اٹلی، اسپین کو کتنی خوراکیں ملیں گی

0

میلان: امریکی اور جرمن کمپنی کی جانب سے کرونا ویکسین کی تیاری کے بعد یورپی ملکوں میں ویکسین حاصل  کرنے کی دوڑ لگ گئی، یورپ کو ویکسن سے کتنا حصہ ملے گا، اور اس میں اٹلی، جرمنی اور اسپین کا کیا حصہ ہوگا، وہ کیا چاہتے ہیں، تفصیلات سامنے آنے لگیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عالمی دوا ساز کمپنیوں امریکی فائزر اور جرمن بائیون ٹیک کی طرف سے تیار کی گئی کرونا ویکسین پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہیں، بالخصوص یورپ اور امریکہ جو اس وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ہیں، وہاں کی حکومتوں اور عوام کو شدت سے اس ویکسین کا انتظار ہے، صدر یورپی یونین یورسلا وان ڈئیر لیان نے کہا کہ یورپی کمیشن ویکسین کی فراہمی کیلئے معاہدہ کی منظوری دے گا، اور ابتدائی طور پر 20 کروڑ خوراکیں حاصل کی جائیں گی، جن میں مزید 10 کروڑ کا اضافہ کیا جاسکتا ہے، جرمنی کو کرونا ویکسین کا کوٹہ لینے میں برتری حاصل ہے، کیوں کہ   ویکسین تیار کرنے والی ایک کمپنی جرمن ہے، اس لئے جرمن وزیر صحت  جینزسفان کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ جرمنی کو 10 کروڑ خوراکیں ملیں گی، انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے یہ اہم ہے، جرمنی کو جلد از جلد ویکسین فراہم ہو، وزیر صحت کی حیثیت سے میرے لئے اس کی وضاحت مشکل ہوگی کہ جرمنی میں تیار ہونے والی ویکسین دیگر ممالک کو پہلے اور زیادہ تیزی سے فراہم کی جائے، انہوں نے کہا کہ ہم یورپی کمیشن پر بھی زور دے رہے ہیں کہ وہ بلا تاخیر ویکسین کے لئے معاہدہ پر دستخط کرے۔

اٹلی کا حصہ

یورپی یونین کے فریم ورک معاہدے کے تحت ویکسین کی 20 کروڑ خوراکوں میں سے 13 اعشاریہ 6 فیصد اٹلی کو ملیں گی، جو 34 لاکھ بنتی ہیں، یورپی میڈیسن اتھارٹی کی طرف سے دسمبر میں ویکسین کی باضابطہ منظوری کے بعد اٹلی کو یہ ویکسین جنوری کے آغاز میں مل سکتی ہے، 34 لاکھ خوراکوں کا مطلب ہے کہ تقریباً 17 لاکھ اطالوی شہریوں کو یہ ویکسین فراہم کی جاسکے گی، کیوں کہ ہر فرد کو اس کی 2 خوراکیں دینا ضروری ہے، پہلی خوراک کے 21 روز بعد دوسری خوراک دی جائے گی، تاہم اطالوی حکام پرامید ہیں کہ انہیں 34 لاکھ سے زائد خوراکیں مل سکتی ہیں، کیوں کہ بعض ممالک جہاں صورتحال زیادہ خراب نہیں ہیں، وہ  اپنے کوٹے سے کم خوراکیں لے سکتے ہیں۔ اطالوی اخبار ’’لاری پبلکا‘‘ کے مطابق وزیر صحت  رابرٹو سپرانزا نے ویکسین تیار کرنے والی کمپنی کے ایگزیکٹوز سے آن لائن میٹنگ کی ہے، جس میں ویکسین کی جنوری کے آغاز میں تقسیم پر بات چیت ہوئی، اخبار کے مطابق اٹلی میں ویکسین کی تقسیم کے لئے فوج کو متحرک کیا جائے گا، جو تیزی کے ساتھ  اس ویکسین کو اسپتالوں میں فرنٹ لائن  طبی ورکرز، کئیر ہومز اور زیادہ خطرے والے دیگر مریضوں تک پہنچائے گی۔

اور 20 جنوری سے یہ کام شروع ہونے کا امکان ہے، فائزر کمپنی کی ویکسین کے علاوہ اٹلی برطانوی دوا ساز فرم ’’اسٹرا زینیکا‘‘ کی تیار کردہ ویکسین کا بھی ملک میں ٹرائل کرارہا ہے، اور یہ تیسرے مرحلے کے ٹرائل میں ہے، اس کی کامیابی کی صورت میں اٹلی مزید 15 لاکھ افراد کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین دینے میں کامیاب ہوجائے گا، دوسری طرف اٹلی میں یومیہ کرونا کیس منگل کو 35 ہزار سے تجاوز کرگئے، جبکہ 24 گھنٹوں میں مزید 580 افراد کی جان  چلی گئی، ایک دن میں یہ بڑا اضافہ تھا، کیوں کہ پیر کو مرنے والوں کی تعداد 356 اور متاثرین میں 25 ہزار 271 کا اضافہ ہوا تھا، اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اطالوی حکومت نے مزید 5 ریجنز کو اورنج زون میں شامل کردیا ہے، ان میں ٹسکونی، امبریا، لیگوریا، ابروزا اور بسیلکیٹا شامل ہیں، اورنج زون میں شمولیت کے بعد سسلی اور پگالیا کی طرح ان پانچ زونز میں بھی باہر سے آمد ورفت پر پابندی  لگادی گئی ہے۔

اسپین کا موقف

اسپین کے وزیرصحت سلواڈور نے ویکسین کے حوالے سے اپنا منصوبہ بیان کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اسپین میں ہم مئی  تک فائزر اور جرمن کمپنی کی تیار کردہ ویکسین کی 2 کروڑ خواراکیں حاصل کرنا چاہتے ہیں، جن سے ایک کروڑ افراد کو اس وبا سے تحفظ مل سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم یہ ویکسین مفت میں فراہم کریں گے، وزیر صحت نے کہا کہ اگر ہم اس منصوبے میں کامیاب ہوگئے تو مئی تک ہم اسپین میں وبا کے خلاف اگلے اسٹیج میں داخل ہوسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ویکسین مکمل محفوظ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.