تارکین کی کشتی یونانی ساحل کے قریب ڈوب گئی

0

ایتھنز: ترکی سے یونان آنے والوں کی کشتی ساحل کے قریب پہنچ کر ڈوب گئی، کشتی میں سوار تارکین میں شامل معصوم پھول کھلنے سے قبل ہی مرجھا گیا،جبکہ ماں کی حالت بھی تشویشناک ہے، یونان کی کوسٹ گارڈ نے مدد کیلئے بھرپور کوشش کی، تاہم  اس کے باوجود وہ تمام تارکین کو بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

تفصیلات کےمطابق ترکی سے یونان کے جزیرے ساموس کی طرف کشتی کے ذریعہ آنے والے تارکین کی کشتی یونانی ساحل کے قریب پہنچ کر ڈوب گئی، اطلاعات کے مطابق کشتی میں 24  تارکین سوار تھے، جن میں سے 6 نے کشتی میں خرابی کے بعد چھلانگیں لگادیں، اور تیر کر یونانی جزیرے پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، لیکن اس دوران ایک خاتون اور 6 سالہ بچے سمیت دیگر تارکین کشتی کے ساتھ ہی ڈوبنے لگے، یونانی کوسٹ گارڈ کو جب حادثہ کی اطلاع ملی تو انہوں نے جہاز روانہ کئے  لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی، بعد ازاں امدادی کارروائیوں کے دوران 6 سالہ بچے کی لاش ساحل سے مل گئی، جبکہ اس کی ماں بھی قریب ہی تشویش  ناک حالت میں ملی ہے، یونانی حکام کے مطابق دیگر 10 تارکین کو بچالیا گیا ہے، یونانی اخبار ’’گریک سٹی  ٹائمز‘‘ کے مطابق کشتی میں 24 تارکین ترکی سے روانہ ہوئے تھے، اس طرح 6 تارکین اب بھی لاپتہ ہیں، تاہم بعض دیگر اطلاعات کے مطابق یہ 6 تارکین بھی کسی نہ کسی طرح ساحل پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے، اس طرح حادثہ میں صرف ایک بچہ کی جان ہی گئی ہے۔ اس سال یونان کے جزائر کی طرف آنے والے تارکین کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس اکتوبر کے آخری ہفتے میں 2370 مہاجرین یونانی جزیروں پر پہنچے تھے، لیکن اس سال یہ تعداد محض 17 تک محدود رہی ہے، یونانی جزائر پر 20 ہزار کے قریب تارکین وطن موجود ہیں، جن میں سب سے بڑی تعداد افغانیوں کی ہے، جو اس تعداد  کے تقریباً  آدھے ہیں، اس کے بعد شامی  مہاجرین ہیں، جو 20 فیصد تک بنتے ہیں، ان تارکین وطن میں بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں، اور ان کی تعداد 29 فیصد ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.