استعفوں کے غبارے سے ہوا نکل گئی، اپوزیشن اتحاد میں اختلافات بڑھنے لگے

0

اسلام آباد: (تصدق چوہدری): اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفوں کے اعلانات سے ہوا نکل گئی، پیپلز پارٹی کسی صورت اسمبلییوں سے استعفیٰ دینے کیلئے تیار نہیں، اسلام آباد میں قیادت کے اجلاس میں پی پی پی کی مخالفت کے بعد معاملہ ٹالنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ن لیگ کی ڈی فیکٹو قائد مریم نواز کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفوں اور آر پار کے اعلانات  کے بعد منگل کو اسلا م آباد میں ہونے والے پی ڈی ایم اجلاس  پر سب کی نظریں لگی ہوئی تھیں، مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پیپلزپارٹی کے سربراہ  بلاول زرداری نے بھی شرکت کی۔ جبکہ نواز شریف، آصف زرداری اور اختر مینگل ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اسمبلیوں سے استعفوں کی حامی ن لیگ اور مولانا فضل الرحمن   کی طرف سے جب معاملہ اٹھایا گیا، تو سندھ میں حکمرانی کرنے والی پیپلزپارٹی نے اس کی مخالفت کی، پی پی نے موقف اختیار کیا کہ فی الحال اسمبلیوں سے استعفوں کا معاملہ موخر رکھا جائے، ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے ن لیگ اور جے یوآئی کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ استعفوں کا کارڈ کھیل کر سندھ حکومت چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہے، ذرائع کے مطابق پی پی پی قیادت وفاق پر دباؤ ڈالنے کی حد تک پی ڈی ایم کے ساتھ ہے، اور اس کی کوشش ہے کہ وہ اس دباؤ کو استعمال کرکے آصف زرداری اور فریال تالپور کے کرپشن کیسز پر وفاقی حکومت اور اہم حلقوں سے اپنے لئے ریلیف حاصل کرلے، تاہم وہ کسی صورت اسمبلیاں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔

اس حوالے سے پی پی پی رہنماؤں کا نجی محفلوں میں کہنا ہے کہ اگر ہم مستعفی ہوجائیں، اور بالفرض دوبارہ الیکشن بھی ہوں، تو تب بھی پی پی کا کیک اس سے بڑا نہیں ہوسکتا، ہمیں پھر بھی زیادہ سے زیادہ سندھ میں ہی حکومت ملنی ہے، ایسے میں پارٹی قیادت کوئی سیاسی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہے۔

رہنما نے نشاندہی کی کہ ن لیگ کے پاس کھونے کو کچھ نہیں، وہ پہلے ہی پنجاب اور وفاق سے فارغ ہوچکے ہیں، اس لئے وہ پورے اپوزیشن اتحاد کو ساتھ ملا کر سیاسی جوا کھیلنا چاہتی ہے، لیکن پیپلزپارٹی اپنا سیاسی مفاد سامنے رکھے گی، ذرائع کے مطابق پی پی پی کی طرف سے مخالفت کے بعد استعفوں کا معاملہ موخر کردیا گیا، تاہم میڈیا میں دباؤ برقرار رکھنے  کے لئے یہ اعلان سامنے لایا گیا ہے کہ 31 دسمبرتک تمام اپوزیشن ارکان   استعفے اپنی اپنی پارٹی قیادت کے پاس جمع کرائیں گے، اور جنوری میں لانگ مارچ کے بعد اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ استعفوں کے حوالے سے موجودرولز سے آگاہ ایک رہنما کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا یہ اعلان مذاق کے سوا کچھ نہیں، اول تو اگر استعفے دینا مطلوب ہوتا، تو دو تین روز میں تمام استعفے جمع کئے جاسکتے ہیں، لیکن اس کے لئے پورا مہینہ مقرر کردیا گیا، اور پھر بھی استعفے متعلقہ اسپیکرز کے بجائے پارٹی قیادت کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے، جو اس بات کا مظہر ہے کہ پی ڈی ایم اختلافات کا شکار ہوچکی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.