جرمنی میں سیاسی پناہ کیلئے تارکین کس شق سے فائدہ اٹھانے لگے؟

0

برلن: یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے خواہشمندوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان ممالک میں جاکر درخواست دیں، جو زیادہ خوشحال ہیں، اور جہاں زیادہ ملازمتیں اور بینیفٹ ملتے ہیں، لیکن ڈبلن معاہدہ کے تحت تارکین وطن کو اس ملک میں درخواست دینی ہوتی ہے، جہاں وہ سب سے پہلے پہنچتے ہیں۔

البتہ اس معاہدہ کی ایک شق ایسی بھی ہے، جس میں دوسرے ملک میں بھی تارکین وطن کیلئے پناہ کی درخواست کا راستہ کھل جاتا ہے، اور آج کل جرمنی کے کئی سیاستدان اس شق کے بڑھتے استعمال سے ہی پریشان ہیں، جرمنی میں اس وقت 28 ہزار سے زائد ایسے تارکین وطن موجود ہیں، جن کی درخواستیں دوسرے یورپی ملک میں پراسیس ہونی چاہیئے تھیں، لیکن وہ جرمنی میں داخل ہوگئے،  جرمنی میں اس سال اب تک 15 سو سے زائد تارکین وطن صرف اسکینڈے نیوین ممالک ڈنمارک، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ سے غیر قانونی طور پر داخل ہوچکے ہیں، یہ تارکین ڈنمارک کی سرحد پار کرکے یا پھر سویڈن سے کشتیوں کے ذریعہ جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہوئے، اور وہ اس امید پر جرمنی میں داخل ہورہے ہیں کہ یہاں ان کی سیاسی پناہ کی درخواست منظور ہونے کا امکان زیادہ ہے، اب جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواست میں ڈبلن معاہدہ کی وہ شق حائل ہوتی ہے، جس کے تحت تارکین کو اس یورپی ملک میں درخواست دینی ہوتی ہے، جہاں وہ سب سے پہلے داخل ہوتے ہیں، لیکن تارکین وطن جرمنی میں پناہ کی درخواست کے لئے ڈبلن معاہدہ کی ہی ایک شق کا سہارا لے رہے ہیں۔

ڈبلن معاہدے کی اس شق کے تحت کسی دوسرے یورپی ملک میں بھی اگر کوئی شخص 6 ماہ گزار لے، تو وہ وہاں بھی سیاسی پناہ کی درخواست دے سکتے ہیں، اس شرط پر پورا اترنے کے لئے تارکین وطن جرمنی میں داخل ہونے  کے بعد 6 ماہ تک چھپ چھپا کر رہنے کی کوشش کرتے ہیں، اور مدت پوری ہونے کے بعد اسائلم اپلائی کردیتے ہیں، جبکہ کرونا کی وجہ سے بھی ہزاروں تارکین کو جرمنی بروقت ان یورپی ملکوں میں ڈیپورٹ نہیں کرسکا، جہاں وہ سب سے پہلے داخل ہوئے تھے، اور اب 6 ماہ کی مدت گزرنے کے بعد وہ جرمنی کی ذمہ داری بن گئے ہیں، اسی حوالے سے سیاسی جماعت سی ڈی یو کے رہنما میتھیس مڈل برگ کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کا ہدف جرمنی پہنچنا زیادہ ہوتا ہے، لہذا ہمیں سیکنڈری مائیگریشن کے خلاف اقدامات متعارف کرانے چاہئیں۔ یہ تارکین جہاں پہلے داخل ہوتے ہیں، یہ ان ممالک کی ہی مستقل ذمہ داری رہنی چاہئے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.