خود کو بچانا ہے یا سیاست، نوازشریف کیلئے کاؤنٹ ڈاؤن شروع

0

لندن: حکومت کی طرف سے نوازشریف کے پاسپورٹ کی 16 فروری کو مدت مکمل ہونے کے بعد اسے منسوخ کرنے کے اعلان سے لیگی قائد مشکل صورتحال میں پھنس گئے ہیں، انہوں نے لندن میں وکلا سے مشاورت کی ہے، لیکن ایسا کوئی حل سامنے نہیں آسکا، جس سے نوازشریف لندن میں اپنا موجود اسٹیس برقرار رکھ سکیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم کی حیثیت سے نوازشریف کے پاس اس وقت سفارتی پاسپورٹ ہے، جس پر انہیں عام پاکستانیوں سے زیادہ سہولتیں ملتی ہیں، تاہم یہ پاسپورٹ 16 فروری کو ختم ہوجائے گا، اور وزیرداخلہ شیخ رشید نے نوازشریف  کو نیا پاسپورٹ جاری نہ کرنے  کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد عملی طور پر ان کی حیثیت بے شہری باشندہ کی ہوجائے گی، پاسپورٹ منسوخی کے بعد نوازشریف برطانیہ میں مزید ویزا توسیع حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے، ذرائع کے مطابق حکومتی فیصلے سے نوازشریف کی مشکلات بڑھ گئی ہیں، انہوں نے قریبی رفقا اور لندن میں برطانونی قانون کے ماہرین سے مشاورت کی ہے، لیکن ایسا کوئی حل سامنے نہیں آسکا، جس سے نوازشریف لندن میں اپنا موجود اسٹیس برقرار رکھ سکیں۔

ذرائع کےمطابق نوازشریف کو برطانیہ میں مزید قیام کے لئے سیاسی پناہ کی درخواست دینی ہوگی، اور ایسی درخواست انہیں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے ہم پلہ لاکھڑا کرسکتی ہے، اور اس سے پاکستان میں ان کے سیاسی عزائم کو سخت دھچکہ پہنچے گا، دوسری جانب نوازشریف دو عرب ممالک کی اہم شخصیات سے بھی رابطے میں ہیں، اور کچھ مشیروں نے انہیں یہ آپشن بھی دیا ہے کہ وہ  16 فروری سے قبل ایک بڑے عرب ملک منتقل ہوجائیں۔

تاہم ذرائع کے مطابق نوازشریف لندن چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ عرب ملک میں منتقلی کی صورت میں ان کے لئے  کھلی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا، اسی طرح ان کے لئے بیرون ملک قیام کیلئے علاج کو جواز بنانے کا آپشن بھی ختم ہوجائے گا،  ذرائع کے مطابق نوازشریف نے مشیروں کو برطانیہ میں ہی قیام کا کوئی راستہ نکالنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم برطانوی قانون کے ماہرین کا اتفاق ہے کہ سیاسی پناہ کی درخواست دئیے بغیر نوازشریف کے لئے 16 فروری کے بعد قانونی طور پر لندن میں قیام کرنا ممکن نہیں رہے گا، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ  نوازشریف اب دوراہے پر کھڑے ہیں،  سیاست بچانی ہے، تو انہیں واپس آنا ہوگا، لیکن اگر وہ جیل جانے سے بچنے کیلئے سیاسی پناہ یا کوئی دوسرا آپشن اپناتے ہیں، تو ان کی سیاسی ساکھ کو بہت نقصان پہنچے گا، ان کے پاس فیصلے کے لئے وقت کم رہ گیا ہے۔

اس حوالے سے ان کے صاحبزادے حسین نواز کا کہنا ہے کہ حکومت کا فیصلہ ہمارے لئے غیر متوقع نہیں ہے، اس حکومت سے ہم اسی طرح کی انتقامی کارروائیوں کی توقع کرسکتے ہیں، انہوں نے انگریزی اخبار کو بتایا کہ نئی صورتحال پر قانونی ماہرین سے مشاورت کررہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.