ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس اجلاس الٹ دیا

0

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے ملک میں ہونے والے حالیہ صدارتی الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے واشنگٹن میں کانگریس اجلاس پر دھاوا بول دیا، اور نومنتخب صدر جو بائیڈن کی کامیابی کے باضابطہ اعلان کو رکوانے میں کامیاب ہوگئے، اس موقع پر پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی تاریخ میں پہلی بار کانگریس کی کیپیٹل ہل عمارت کے اندر گولیاں چل گئیں، اور شیلنگ  ہوئی ہے، پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، جن میں ایک خاتون ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔ صدارتی الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں نے کانگریس کی عمارت پر چڑھائی کردی، اور بائیڈن کی کامیابی پر مہر لگانے کے لئے بلایا گیا اجلاس الٹ دیا، ارکان کو گیس ماسک پہنا کر خفیہ راستوں سے نکالا گیا۔ حالات کشیدہ ہونے پر میئر نے واشنگٹن میں فوج طلب کرلی اور کرفیو کا اعلان کردیا ہے، جو شام 6 سے صبح 6 بجے تک ابتدائی طور پر نافذ کیا گیا ہے، اپنے حامیوں کی جانب سے کیپٹل ہل کی طرف مارچ سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود بھی وائٹ ہاؤس کے باہر آکر ان سے خطاب کیا، اور ایک بار پھر اپنا یہ موقف دہرایا کہ انہیں  دھاندلی کے ذریعہ ہرایا گیا ہے، صدارتی الیکشن چوری کیا گیا، اصل میں ووٹروں نے انہیں دوبارہ صدر چنا ہے۔

ٹرمپ نے نتیجہ کالعدم نہ کرنے پر نائب صدر مائیک پینس کو بھی آڑے ہاتھوں لیا، ان کے خطاب کے بعد ہزاروں مظاہرین نے کیپٹل ہل کی عمارت کا رخ کیا، اور وہ بہت چارجڈ تھے، اس مارچ کو ’’سیو امریکہ مارچ‘‘ یعنی امریکہ بچاؤ مارچ کا نام دیا گیا تھا۔

کانگریس عمارت پر دھاوے سے جو بائیڈن کی جیت کیلئے الیکٹرول کالج کے ووٹوں کی تصدیق کا عمل روک دیا گیا، جس سے حتمی اعلان بھی التوا کا شکار ہوگیا ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ کے عتاب کا شکار نائب صدر مائیک پنس کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

گرفتاریاں اور راستوں کی بندش

پولیس نے ٹرمپ کے حامی انتہاپسند گروپ پراؤڈ بوائز کے سربراہ اونرا کے ٹائریو سمیت ایک درجن سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اطراف اور نیشنل مال کے بعض حصوں میں سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے، میٹرو اسٹیشن کے اطراف نیشنل گارڈز کے اہل کار تعینات کردیے گئے ہیں۔

دوسری جانب کانگریس عمارت پر حملے کے بعد ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا کہ میں کییٹل ہل میں موجود سب سے کہہ رہا ہوں کہ وہ پرامن رہیں، کوئی تشدد نہیں۔ انہوں نے حامیوں سے کہا کہ ہم سیکورٹی فورسز کے لئے مشکل صورتحال پیدا نہیں کرنا چاہتے ، اس لئے آپ واپس چلے جائیں، نومنتخب صدر بائیڈن نے بغاوت کا ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دے دیا ہے، یہ کیسا احتجاج ہے کہ ووٹ کے تقدس کوپامال کیا جارہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.