برقع پر پابندی لگے گی، یا نہیں، یورپی ملک میں فیصلے کی گھڑی آگئی

0

جنیوا: برقع پر پابندی لگے گی، یا نہیں، ایک اور یورپی ملک میں اس حوالے سے فیصلہ ہونے جارہا ہے، اگر چہ حکومت نے اس پابندی کی مخالفت کی ہے، تاہم عوام کی جانب سے فیصلہ اہم ہوگا، اور اس کے مطابق ہی حکومت کو بھی عمل کرنا ہوگا۔

جی ہاں ہم بات کررہے ہیں، ہر اہم فیصلہ ریفرنڈم میں عوامی رائے پوچھ کر کرنے کی شہرت رکھنے والے ملک سوئٹزرلینڈ کی،  جہاں 7 مارچ بروز اتوار کو ایک بار پھر ریفرنڈم ہونے جارہا ہے، اس ریفرنڈم میں عوام سے تین معاملات پر رائے لی جارہی ہے، جس میں سب سے اہم برقع پر پابندی ہے، اس کے علاوہ الیکٹرانک شناخت کا قانون اور انڈونیشیا کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کا معاملہ شامل ہے، برقع پہننے پر پابندی کا ریفرنڈم دائیں بازوں کے گروپوں کے مطالبے پر ہورہا ہے، جن کا کہنا ہے کہ برقع پر پابندی سے مغربی اقدار کے تحفظ کی توثیق ہوگی، اور دوسری طرف جرائم روکنے میں بھی مدد ملے گی، تاہم سوئس حکومت نے برقع پر پابندی کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یورپی ملک میں نقاب پر پابندی کا ریفرنڈم

حکومت کا کہنا ہے کہ برقع پر پابندی کے بجائے یہ قانون نافذ کیا جاسکتا ہے، جس کے تحت ضرورت پڑنے پر سرحد، پبلک ٹرانسپورٹ میں پولیس یا دیگر اہلکار شناخت کے لئے چہرہ دیکھ سکیں، تاہم حکومت کی تجویز پر عمل درآمد اسی صورت ممکن ہوگا، جب اتوار کو ہونے والے ریفرنڈم میں سوئس عوام برقع پر پابندی کی تجویز مسترد کردیں۔

واضح رہے کہ دو سوئس ریجنز Ticino اور St GALLEN میں پہلے ہی برقع پر پابندی ہے، جبکہ تین ریجنز زیورخ، گلارس اور سولتھم حالیہ برسوں میں ایسی پابندی کی تجویز مسترد کرچکے ہیں۔ ریفرنڈم سے قبل رائے عامہ کے جائزے میں جب 15 ہزار سوئس شہریوں سے رائے لی گئی، تو ان میں سے 63 فیصد نے برقع پر پابندی کے حق میں ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے

کتنی خواتین برقع پہنتی ہیں؟

تقریبا ً85 لاکھ آبادی والے سوئٹزرلینڈ میں زیادہ سے زیادہ 100 مسلم خواتین برقع پہنتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکومت اور کئی تنظیمیں برقع پر پابندی کے مطالبے کی مخالفت کررہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ برقع پر پابندی سے ملک میں سیاحت کو بھی نقصان ہوسکتا ہے، اورعرب ممالک سے آنے والی سیاحتی فیملیز کی حوصلہ شکنی ہوسکتی ہے۔

ریفرنڈم میں دوسری رائے الیکٹرانک شناخت پر لی جارہی ہے، جس کے تحت آن لائن سروس استعمال کرنے والوں کو حکومت کی تسلیم شدہ آئی ڈی شناخت اور کارڈ دیا جائے گا، تاکہ ان کی الیکٹرانک ٹرانزیکشنز محفوظ رہیں، تاہم اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک شناختی کارڈ کا اجرا حکومت کا کام نہیں، بلکہ یہ نجی کمپنیوں کو کرنا چاہئے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.