روتے بچوں کو چپ کرانے کا سائنس نے طریقہ تلاش کرلیا

0

واشنگٹن: انسان کا بچہ پیدائش کے بعد بہت کمزور ہوتا ہے، اور وہ تین سے چار برس کی عمر تک عملی طور پر والدین پر انحصار کرتا ہے، اس کے بولنے اور سمجھنے کا عمل بھی بہت لیٹ شروع ہوتا ہے، یہی وجہ ہے چھوٹے بچے جب روتے ہیں، تو انہیں چپ کرانا ہمیشہ سے والدین کیلئے مسئلہ رہا ہے۔

کیوں کہ انہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ بچہ آخر رو کیوں رہا ہے، اور اسے چپ کرانے کے لئے کیا کیا جائے، سو ماں کو جو سمجھ آتا ہے، وہ اس کے مطابق اپنے بچہ کو چپ کرانے کی کوشش کرتی ہے، کبھی تھپکی دیتی ہے، تو کبھی یہ چیک کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ بچے کو کوئی تکلیف تو نہیں، اس کے لئے اس کے جسم کے مختلف حصوں پر ہاتھ لگاتی ہے، اور پھر بچے کا ردعمل چیک کرتی ہے، کہ بچہ کسی جگہ ہاتھ لگانے پر زیادہ تو نہیں رویا، لیکن اب سائنسدانوں نے روتے ہوئے بچے کو چپ کرانے کیلئے کامیاب تجربات کئے ہیں، اور اس کا آسان طریقہ دریافت کرلیا ہے، عالمی سائنسی جریدے ’’کرنٹ بائیو لوجی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق روتے ہوئے بچوں کو چپ کرانے کے لئے سائنسدانوں نے اٹلی اور جاپان میں تجربات کئے ہیں، اور روتے ہوئے بچے کو چپ کرانے کے سوال کا جواب تلا ش کرلیا ہے، تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے بچوں کو چپ کرانے کے حوالے سے تحقیق کیلئے چوہوں، کتےاور بندر کے بچوں پر تجربات سے آغاز کیا، جو انسانوں کے بچوں کی طرح ہی پیدائش کے وقت بہت کمزور ہوتے ہیں، اور روتے بھی زیادہ ہیں، انہوں نے مشاہدہ کیا کہ جب ان جانوروں کے بچے رونے لگتے ہیں، تو ان کے والدین انہیں اٹھا کر چلنے لگتے ہیں، جس پر ان کے بچے چپ ہوجاتے ہیں، تحقیق کو آگے بڑھانے پر پتہ چلا کہ جب ان جانوروں نے اپنے روتے ہوئے بچوں کو اٹھایا اور چلنا شروع کیا، تو ان کے دل کی دھڑکن جو رونے سے تیز ہوگئی تھی، وہ واپس معمول پر آگئی۔

جاپانی خاتون ماہر تحقیق میں شامل Kumi Kuroda اور ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ ان جانوروں کا مشاہدہ کرنے کےبعد ہم انسانوں کے بچوں میں ردعمل دیکھنا چاہتے تھے، اس کے لئے انہوں نے ایسی 21 خواتین کو چنا ، جن کے بچے 7 ماہ تک کے تھے، ماہرین نے روتے ہوئے بچوں کو ان کی ماوں کی گود میں دیا، اور انہیں بیٹھے بیٹھے بچوں کو ہلانے کو کہا، پھر بچوں کو کھڑے جھولے میں ڈال کر چیک کیا گیا، اس کے بعد جھولا جھلا کر چیک کیا گیا، ان سارے عوامل کے دوران روتے ہوئے بچوں کو کچھ سکون توملا، لیکن جب ان بچوں کو اٹھا کر ان کی ماوں نے واک شروع کی تو 30 سیکنڈ کے اندر بچے پرسکون ہونے لگے، اور ان کے دل کی دھڑکن بھی سست ہو گئی۔

جب مائیں روتے ہوئے ان بچوں کو لے کر واک کرنے لگیں ، تو اگلے 5 منٹ کے اندر 46 فیصد بچے تو اتنے سکون میں آگئے، کہ وہ سوگئے، جبکہ چھٹے منٹ میں مزید 18 فیصد بھی سونے کی کیفیت میں آگئے، لیکن پھر جیسے ہی بچوں کو ماوں نے بستر پر لٹایا، تو ان میں سے ایک تہائی فوری جاگ گئے ، سائنسدانوں نے ان کے دل کی دھڑکن چیک کی ، تو معلوم ہوا کہ ماں کے جسم سے الگ ہوتے ہی ان کے دل کی دھڑکن پھر تیز ہوگئی تھی، جاپانی ماہر کا کہنا تھا کہ اس کا حل یہ ہے، جب پانچ سے چھ منٹ واک کے بعد بچے سوجائیں ، تو مائیں فوری انہیں بستر پر نہ لٹائیں، بلکہ مزید 5 سے 8منٹ انہیں گود میں لے کر بیٹھی رہیں، اور اس کے بعد بستر پر منتقل کیا جائے، تاکہ بچے کا جسم اس دوران مکمل نیند کی حالت میں چلا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.