ثمن عباس کے والد کی اطالوی عدالت میں پیشی ہوگئی

0

اسلام آباد: اٹلی میں دو برس قبل قتل ہونے والی پاکستانی لڑکی ثمن عباس کے والد کی بالاخر اطالوی عدالت میں پیشی ہوگئی، اس کیس میں ثمن کے والدین سمیت کل پانچ افراد ملزم ہیں، کیس اب چلنا شروع ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اٹلی میں اپریل 2021 میں پاکستانی لڑکی 18 سالہ ثمن عباس لاپتہ ہوگئی تھی ، جب کہ اس کے فوری بعد اس کے والد اور والدہ پاکستان آگئے تھے، بعدازاں اطالوی تفتیش کار تحقیقات اور ثمن کے بھائی کے بیان کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ثمن کو پسند کی شادی سے روکنے کے لئے مار دیا گیا ہے، اس کیس میں ثمن کے والد شبیر عباس، والد نازیہ شاہین، چچا دانش حسین، کزن اکرام اعجاز اور نعمان الحق ملوث قرار پائے تھے۔

ثمن کے والدین تو پاکستان آگئے تھے، لیکن فرانس اور اسپین فرار ہونے والے باقی تینوں ملزمان کو بعدمیں اطالوی حکام نے ان ملکوں کی مدد سے گرفتار کرلیا تھا، دانش حسین کی نشان دہی پر گزشتہ برس نومبر میں ثمن کی باقیات بھی ریجو ایملیا کے علاقے نویلارا سےبرآمد کرلی گئی تھیں، اٹلی کی حکومت نے مقتولہ ثمن کے والد اور والدہ کی گرفتاری کے لئے پاکستان سے رجوع کیا تھا، جس پر اس کے والد شبیر عباس کو گزشتہ سال گرفتار کرلیا گیا تھا، اور اب اس کی اٹلی حوالگی کی درخواست عدالت میں زیر سماعت ہے، تاہم اب پہلی بار جمعہ 19 مئی کو اطالوی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران شبیر عباس کو ویڈیو لنک کے ذریعہ پیش کیا گیا ہے۔

پاکستانی عدالت میں موجود شبیر عباس سے اطالوی جج Cristina Beretti نے سوال جواب بھی کئے ہیں، اطالوی خبر ایجنسی ’’انسا ‘‘کے مطابق جج نے شبیر عباس سے پوچھا کہ کیا وہ اطالوی زبان بول لیتا ہے، جس پر شبیر عباس نے کہا کہ زیادہ نہیں، تاہم پاکستانی حکام نے اطالوی مترجم کا انتظام کررکھا تھا، جس کے ذریعہ پہلے شبیر عباس کی شناخت کا عمل مکمل کیا گیا، اور پھر جج نے شبیر عباس سے سوال کئے، جن کا مترجم کی مد د سےاس نے جوا ب دیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.