برطانیہ نے فیملی ویزے بند کرنے کا اعلان کردیا

0

لندن: اہم یورپی ملک نے فیملی ویزے کی ایک قسم بند کرنے کا اعلان کردیا، قانونی امیگریشن میں کمی کے لئے اقدام اٹھایا گیا ہے، صرف مخصوص قابلیت والے افراد کو فیملی بلوانے کی اجازت ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی حکومت غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف تو سخت قانون بنارہی ہے، اور پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی دارالعوام سے منظوری کے بعد اب اس حوالے سے بل درالامرا میں پیش کیا جاچکا ہے، جس کے تحت برطانیہ میں غیرقانوی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کو روانڈا منتقل کردیا جائے گا، اور ان کے پناہ کے کیس وہاں سنے جائیں گے، صرف ان تارکین کو برطانیہ دوبارہ داخلے کی اجازت ملے گی ، جس کے کیس منظور ہوجائیں گے، تاہم برطانیہ میں قانونی طور پر آنے والے تارکین کی تعداد پر بھی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کے کئی رہنما تحفظات کا اظہار کررہےتھے، اور ان کا کہنا تھا کہ اگر امیگریشن کی تعداد میں کمی کے لئے 2019 کے الیکشن میں ووٹرز سے کیا گیا وعدہ پورا نہ کیا گیا، تو ڈیڑھ برس بعد ہونے والے انتخابات میں انہیں اس کا نقصان ہوسکتا ہے۔

ٹوری پارٹی نے الیکشن میں سالانہ امیگریشن دو لاکھ20 ہزار تک لانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن گزشتہ ایک سال میں قانونی تارکین کی تعداد 7 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے، واضح رہے کہ برطانیہ میں عام انتخابات جنوری 2025 میں ہونے ہیں، برطانیہ میں قانونی امیگریشن میں اس وقت طلبا سرفہرست ہیں، برطانیہ اور آسٹریلیا میں طلبا کو اپنی فیملی یعنی بیوی یا شوہر اور بچے بھی ساتھ رکھنے کی اجازت ہوتی ہے، آسٹریلیا میں یہ سہولت ماسٹر کے طلبا کیلئے ہوتی ہے، تاہم برطانیہ میں فیملی بلوانے کی سہولت سے گریجویشن کرنے والے طلبا بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں، لیکن اس سہولت کا اب ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

منگل کو وزیراعظم رشی سوناک نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2024 سے یعنی تقریبا ً 7 ماہ بعد طلبا کے لئے فیملی ویزوں کی سہولت ختم کردی جائے گی، جس سے امیگریشن کی تعداد میں نمایاں فرق پڑے گا، انہوں نے کہا کہ نیا سال شروع ہونے کے بعد صرف ان طلبا کو فیملی بلوانے کی سہولت دی جائے گی، جو ریسرچ کورسز یعنی پی ایچ ڈی وغیرہ کے لئے برطانیہ آئیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس برطانیہ نے طلبا کے لئے ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد ویزے جاری کئے تھے، برطانیہ نے 2019 میں طلبا کو یہ سہولت بھی دے دی تھی کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت تلاش کرنے کے لئے 2 سال تک مزید قیام کرسکتے ہیں، تاہم اب اس سہولت کو بھی محدود کرنے کی باتیں ہورہی ہیں، گزشتہ دو برسوں یعنی 2021 اور 2022 میں برطانیہ میں تقریبا ً6 لاکھ 80 ہزار غیرملکی طلبا آئے ہیں، جن میں سے 3 لاکھ 7 ہزار 470 انڈر گریجویٹ تھے، جو فیملی بلانے کے اہل نہیں تھے۔

دوسری طرف برطانوی کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ اس وقت جب کہ بے روزگاری کی شرح انتہائی کم ہے، قانونی امیگریشن کم کرنے سے کاروبار کو نقصان ہوگا، فوڈ چین ’’اٹس یو‘‘ کے سی ای او جولین میٹ کالف کا کہنا ہے کہ ہمیں پہلے ہی اسٹاف کو حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، اور کئی ریستوران کو اسٹاف نہ ملنے کی وجہ سے کھولنے میں مشکل ہورہی ہے، جس کی وجہ سے قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں، انہوں نے حکومت پر زورد یا کہ وہ دو سالہ ورک ویزے کا اجرا شروع کرے، دوسری طرف اپوزیشن لیبر پارٹی کی رہنما اینی لیز ڈوڈز کا کہنا ہے کہ امیگریشن کی تعداد مقرر کرنا دانش مندی کا فیصلہ نہیں ہوگا، ہمیں ایسے امیگریشن نظام کی ضرورت ہے ، جس سے مختصر الوقت کے لئے ہمیں ملازمین ملتے رہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.