یونانی اہلکاروں کا تارکین کو بڑا دھوکہ، اہم رپورٹ آگئی

0

ایتھنز: یونان پہنچے والے تارکین وطن کے ساتھ بڑے دھوکہ کا انکشاف ہوا ہے، اس حوالے سے اہم رپورٹ آگئی ہے، جس میں کچھ یونانی اہلکار کی طرف سے نئے تارکین وطن کو کرونا ٹیسٹ کے نام پر دھوکہ دے کر واپس بھیجنے کا معاملہ سامنے آیا ہے، ناروے کی این جی او کی چشم کشا رپورٹ سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق ملک میں آنے والے تارکین وطن کے ساتھ ناروا سلوک کے الزامات کا سامنا کرنے والے یورپی ملک یونان میں ایک اور اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس میں یونانی اہلکار تارکین وطن کو دھوکہ دینے میں ملوث پائے گئے ہیں، خدشہ ہے کہ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد یونان میں موجود تارکین وطن کرونا ٹیسٹ میں بھی پس و پیش سے کام لے سکتے ہیں، ناروے کی ان جی او Aegean Boat Report نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ فروری کے وسط میں لیس بوس جزیرے کے مہاجر کیمپ پہنچنے والے 13 تارکین وطن کو یونانی اہلکاروں نے دھوکہ سے واپس بھیج دیا، 5 بچوں اور تین خواتین سمیت یہ 13 تارکین 17 فروری کو یونانی جزیرے لیس بوس کے مہاجر کیمپ پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی ملک نے تارکین کو گھنٹوں کے اندر ڈیپورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا

جہاں یونانی حکام نے انہیں کرونا ٹیسٹ کے بہانے کیمپ سے لے جا کر ان کا مال و اسباب چھین لیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، پھر انہیں گاڑی میں بٹھا کر ساحل پر لے گئے، اور ایک کشتی میں سوار کرکے سمندر میں تنہا چھوڑ دیا، ان تارکین کو حفاظتی جیکٹ تک نہیں دی گئی۔

ناروے کی این جی او کی رپورٹ کے مطابق اس سے پہلے کہ تارکین سمندر میں بے یار و مددگار کسی حادثہ کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے، ترک اہلکاروں نے انہیں بچالیا۔ ترک خبررساں ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق ایک اور واقعہ میں بھی ترک اہلکاروں نے 29 تارکین وطن کو بچایا ہے، جنہیں یونانی اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنا کر واپس دھکیل دیا تھا، جبکہ ان سے موبائل فون سمیت سارا سامان بھی چھین لیا تھا، یہ اہلکار دریائے Maritsa کے کنارے بے یار و مددگار ملے تھے۔

خیال رہے کہ یونان کی طرف سے ترکی سے آنے والے تارکین کو روکنے کے لئے سخت اقدامات چھوٹے سے یورپی ملک سائپرس (قبرص) کے لئے مشکل کا باعث بن گئے، تارکین نے اب ترکی سے قبرص کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.