کویت نے پاکستانیوں کیلئے دروازے کھول دیئے، 8 لاکھ بھارتیوں کی چھٹی

1

اسلام آباد: کویت نے تین دہائیوں سے زائد عرصہ کے بعد پاکستانی ورکرز کیلئے اپنے دروازے کھول دئیے ہیں، وزیراعظم عمران خان اور مشیر اوورسیز کی ذاتی کوششوں اور کویتی قیادت سے رابطے رنگ لے آئے، دونوں ملکوں کے درمیان پہلے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں، دوسری طرف کویت نے 8 لاکھ بھارتیوں کو  ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 30 برس قبل نوے کی دہائی میں کویت نے پاکستانی افرادی قوت منگوانے پر پابندی لگادی تھی، جس کی وجہ اس وقت  افغان شہریوں کی جانب سے پاکستانی پاسپورٹ پر منشیات اسمگلنگ کے بڑھتے واقعات بنے تھے۔

اس وقت پاکستانی پاسپورٹ کمپیوٹرائز نہیں تھے اور نہ ہی نادرا بنا تھا، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانی  پاکستانی پاسپورٹ  ایجنٹوں کے ذریعہ باآسانی بنوالیتے تھے ،بعدازاں نادرا کے قیام اور پاسپورٹ کمپیوٹرائز ہونے سے  یہ دھندا کافی  حد تک بند  ہوگیا، لیکن اس دوران آنے والی حکومتوں نے کویت کی لیبر مارکیٹ کھلوانے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی۔

تاہم وزریراعظم عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی اس معاملے پر کویتی قیادت سے رابطہ کیا تھا، اور دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل بات چیت جاری تھی، جس کا نتیجہ گزشتہ روز پہلے معاہدے کی صورت میں سامنے آیا۔

اس معاہدے کے تحت کویت پاکستانی ڈاکٹر، نرسز اور دیگر طبی عملہ بھرتی کرے گا، اس موقع  پر معاون خصوصی برائے اوورسیز زلفی بخاری بھی موجود تھے، انہوں نے معاہدے کو اہم کامیابی قرار دیا ۔

بھارت کیلئے بری خبر

ایک طرف کویت نے پاکستا ن کیلئے اپنی مارکیٹ کھول دی ہے، تو دوسری جانب بھارت کیلئے بری خبر ہے، اور کویت سے 8 لاکھ سے زائد بھارتیوں کی چھٹی ہونے والی ہے، کویت کی پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں بھارتی لیبر فورس کا کوٹہ 15 فیصد سے زائد نہیں ہونا چاہئے، اس وقت کویت میں بھارتی لیبر کا سب سے زیادہ حصہ ہے۔

کویتی اخبار ’’کویت ٹائمز ‘‘ کے مطابق  پارلیمنٹ نے  اس تجویز کا  آئین میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اسے خصوصی کمیٹی کے حوالے کردیا ہے، جو اس کی نوک پلک سنوارنے کے بعد منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں دوبارہ پیش کرے گی، اس بل کی منظوری کے بعد 8 لاکھ بھارتیوں کو کویت  چھوڑنا پڑے گا، جو 15 فیصد کوٹہ سے زائد ہیں۔

بل کی وجہ

بھارتی ورک فورس کا کوٹہ 15 فیصد تک محدود کرنے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ،تاہم ذرائع کہتے ہیں کہ مودی حکومت کی جانب سے  متنازعہ شہریت ایکٹ پر  جس طرح   کویت سمیت خلیجی ممالک میں مقیم  ہندد ورکرز نے اسلام مخالفت پوسٹیں کیں،اور عربوں کو بھی  نشانہ بنایا۔

اس  کے بعد کویت  کے سیاسی و عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی تھی،اور ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بھارتیوں کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی   مسائل کا سبب بن سکتی ہے،اس لئے یہ بل  متعارف کرایا گیا ہے ،جس کی جلد منظوری متوقع ہے ۔

1 Comment
  1. Tasadduq hussain says

    Good.

Leave A Reply

Your email address will not be published.